Posts

Showing posts from November, 2020

ایک کیا تجھ کو خفا کر بیٹھے

 ایک کیا تجھ کو خفا کر بیٹھے  خود کو دنیا سے جدا کر بیٹھے دور تک دھول اڑی یادوں کی بھول کر تجھ کو صدا کر بیٹھے روشنی کی کیا خواہش ہوئی ہم ہتھیلی کو دیا کر بیٹھے پھر بہت دیر تلک روتے رہے آج وہ مجھ کو دعا کر بیٹھے رقص میں ایسے گم ہوئے امجد  ہم کہ خود کو بھی ہوا کر بیٹھے امجد خان تجوانہ x

در سے نہ تم دیوار سے پوچھو

 در سے نہ تم دیوار سے پوچھو درد ہے کیا بیمار سے پوچھو کیسے ڈوبی سانس کی کشتی یادوں کے پتوار سے پوچھو  لہجہ آپ کا ٹھیک نہیں ہے  پوچھو!لیکن پیار سے پوچھو  کیونکر عزت لٹ جاتی ہے  امن کے ٹھیکے دار سے پوچھو  کب تک درد کو سہنا ہو گا امجد تم غمخوار سے پوچھو     #امجد خان تجوانہ # x

خشکی ہے نہ پانی ہے

 خشکی   ہے    نہ   پانی ہے آنکھوں   میں   حیرانی ہے اور ایسے میں   ہم  نے بھی دل کی  بات   ہی مانی ہے چاند    نکلنے      والا    ہے  آنکھوں   میں  طغیانی  ہے سب کو ٹھیک سمجھتا ہوں  یہ      میری     نادانی    ہے یہ   تم خود بھی جانتے ہو تم    میں   کتنا    پانی   ہے عشق میں در در بھٹکے ہیں  خاک بھی ہم نے چھانی ہے  اپنا    آپ   میں   ہاروں  گا تجھ   سے   شرط لگانی ہے  حاکم عیش و عشرت میں  لوگوں   کی   قربانی   ہے پہلے   خود   سے لڑنا   ہے پھر    تلوار   اٹھائی    ہے امجد میرے چاروں اور صدیوں کی ویرانی ہے     امجد خان تجوانہ x

میں بخت ڈھلا مرے ساتھ نہ چل

 میں اک نخل بے برگ و ثمر میں بخت ڈھلا مرے ساتھ نہ چل میں  ڈوبتے  سورج کا منظر  میں بخت ڈھلا مرے ساتھ نہ چل اک  لفظ  کہا  تھا میں  نے کبھی تقدیر بنا وہ دنیا کی  اب لفظوں میں نہیں کوئی اثر میں بخت ڈھلا مرے ساتھ نہ چل تو  مہکا  ہوا اک گلشن   ہے تو خوشیوں بھرا اک آنگن ہے مرے اجڑے ہوئے ہیں بام و در میں بخت ڈھلا مرے ساتھ نہ چل میں دیس میں اپنے پردیسی،پردیس میں جا کر کیا کرتا میں اپنے ہی گھر میں ہوں بے گھر میں بخت ڈھلا مرے ساتھ نہ چل تیرے  سامنے  ایک  زمانہ   ہے،ترا سب سے ہی یارانہ ہے میں اپنے رستےکا پتھر  میں بخت ڈھلا مرے ساتھ نہ چل سب سمٹ گیا تیری نظروں میں جو کچھ بھی تھا اس دنیا میں  تنکوں کی طرح گئی ذات بکھر میں بخت ڈھلا مرے ساتھ نہ چل جوں پہلی رات اجڑ جائے کسی دلہن کی دنیا امجد میں کانٹوں سجا ہوں اک بستر میں بخت ڈھلا مرے ساتھ نہ چل امجد خان تجوانہ x

بس محبت کی ہے ترجماں میری ماں

 بس محبت کی ہے ترجماں میری ماں مہرباں،مہرباں،مہرباں میری ماں وہ نہ ہو تو اندھرا ہی ہے ہر طرف  روشنی کی وہ ہے کہکشاں میری ماں جب بھی مشکل نے گھیرا مجھے دوستو' میں پکارا گیا،میری ماں ،میری ماں اے زمانے' مجھے دھوپ کا خوف کیوں ہے گھنی چھاوں کا آشیاں میری ماں ہر گھڑی میں خدا سے دعا یہ کروں اب ہمیشہ رہے جاوداں میری ماں سب خطائیں مری وہ چھپا لیتی ہے  مجھ سے ہوتی نہیں بدگماں میری ماں  ماں نہ ہوتی تو دنیا میں کچھ بھی نہیں سچ ہے امجد کہ میرا جہاں میری ماں امجد خان تجوانہ  x

عشق تھا،سو عشق تو ہم بے بسر کرتے رہے

 عشق تھا،سو عشق تو ہم بے بسر کرتے رہے ہم ہوا کے دوش پر گویا سفر کرتے رہے اس قدر دکھ دردتھے کہ چیختے ہم بار ہا زندگی چپ چاپ لیکن ہم بسر کرتے رہے نام تیرا لکھنے کی خواہش نہ پوری ہو سکی خونچکا ں ہم انگلیوں کو عمر بھر کرتے رہے درد کی دولت جو اپنے ہاتھ آنے لگ گئی عام سارے شہر میں ہم یہ ہنر کرتے رہے عشق میں کچھ معجزے بھی اپنے ہاتھوں سے ہوئے ہم  بھی امجد   اشک  سوزاں   کو   گہر کرتے  رہے   امجد خان تجوانہ

تیرے سب خط سنبھال رکھے ہیں

 تیرے سب خط سنبھال رکھے ہیں کتنے غم   ہیں جو پال  رکھے ہیں یونہی چہرے یہ جھریاں  تو نہیں   ساتھ میں ماہ و سال  رکھے  ہیں  یہ مرے شعر   قیمتی  ہیں  بہت  ان  میں تیرے خیال  رکھے  ہیں  عشق کے ساتھ  درد  کے  ناطے  جتنے  رکھے،  کمال  رکھے ہیں  حادثے وقت میں ہیں جتنے بھی  ہم نے وہ کل  پہ ٹال رکھے  ہیں  اس نے کوئی جواب ہی نہ دیا  ہم  نے کتنے  سوال رکھے ہیں  کتنا مشکل تھا زندگی کا سفر  سانس ہم  نے بحال رکھے ہیں       @امجد خان  تجوانہ@ x

جب بھی کبھی تو مجھ کو میسر نہیں ہوتا

جب بھی کبھی تو مجھ کو میسر نہیں ہوتا آنکھوں میں مرے کوئی بھی منظر نہیں ہوتا مجھ پر بھی ترے پیار کی بارش جو برستی دھرتی کی طرح میں کبھی بنجر نہیں ہوتا دکھ درد تو دیمک کی طرح کھاتے ہیں اس کو  انسان تو انسان ہے پتھر نہیں ہوتا ہم کو تو میاں خواب میں ملتا ہے مسلسل  اتنا بھی یہ محبوب ستم گر نہیں  ہوتا باتوں سے مجھے زخم نیا دیتے ہیں امجد  ہاتھوں میں کسی شخص کے خنجر نہیں ہوتا امجد خان تجوانہ x

کتنی صدیاں ہی پیار میں رہتے

 کتنی صدیاں ہی پیار میں رہتے عشق  تیرے  حصار  میں  رہتے  تیری زلفوں میں شام ہو  جاتی اک عجب سے خمار میں رہتے  کتنے دھوکے دیئے ہیں دنیا نے کس کے ہم اعتبار میں رہتے  گر ترا ساتھ ہم کو مل جاتا دوستوں کے شمار میں رہتے  تم مجھے چھوڑ کر نہ جاتے تو  ہم بھی امجد بہار میں رہتے  امجد خان تجوانہ

ایک منزل کا نشاں ہوتے گئے

ایک منزل کا  نشاں ہوتے  گئے ہم مکاں سے لامکاں ہوتے گئے ایسی قدغن تھی کہ کچھ نہ بولتے لفظ   ہی  میری    زباں    ہوتے گئے راز کتنے میرے دل میں دفن تھے آنکھ  سے  لیکن  عیاں  ہوتے  گئے ہولے   ہولے   زخم  یہ بھرنے لگے دھیرے دھیرے داستاں ہوتے گئے جیسے  جیسے   تنگ   دستی آ  گئی چہرے کچھ مجھ پر عیاں ہوتے گئے ہم پہ امجد خان تجوانہ کے شعر حیرتوں  کا   اک  جہاں ہوتے گئے امجد خان تجوانہ

حقہ پینے والے کی یاد میں

نظم  حقہ پینے والے کی یاد میں ۔۔ 🌷 وہ دن بھی کتنے اچھے تھے کبھی جب گھر کےآنگن میں لگے شہتوت کے نچے مری ماں جھاڑو دیتی تھیں پرانی چارپائی جھاڑ کر پھر سے بچھاتی تھیں مرے ابا کے حقہ کی چلم بھی جگمگاتی تھی بہاریں مسکراتیں کہکشائیں رقص کرتی تھیں میں  خود ماں سے لپٹ جاتا کئی قسمیں اٹھاتا خود ہی ان کو بھول بھی جاتا وہ دن۔۔۔۔۔۔ ماضی کے دن کتنے سہانے تھے مگر اب شہر کے اپنے مسائل ہیں بہاریں کھوچکی ہیں کہکشائیں بین کرتی ہیں نہ ماں زندہ ہے ۔۔۔۔۔۔ اور نہ صحن میں  شہتوت کا پودا نہ وہ حقہ رہا باقی۔۔۔۔۔ نہ حقہ پینے والے ہیں۔۔۔۔ امجد خان تجوانہ

دے رہا ہوں صدا تم کہاں کھو گئے

دے رہا ہوں صدا تم کہاں کھو گئے ہائے میرے خدا تم کہاں کھو گئے یاد رکھنا مری زندگی تم سے ہے کر رہا ہوں دعا تم کہاں کھو گئے یاد ہے تم نے مجھ سے کہا تھا کبھی ہم نہ ہوں گئے جدا تم کہاں کھو گئے میری آنکھوں میں سیلاب آنے لگا میں کروں التجا تم کہاں کھو گئے آج امجد نے  تم  کو  پکارا   بہت اے مرے بے وفا تم کہاں کھو گئے امجد خان تجوانہ

ایسا کون آ گیا ہے گاوں میں

 ایسا  کون   آ گیا   ہے گاوں میں  دھوپ سا ذائقہ ہے چھاؤں میں میں کہ لندن کو چھوڑ آیا ہوں   عمر گزرے گی تیرے گاوں میں  ہم  نے   مانگا   بہار   کا موسم  خوف  آنے   لگا    خزاوں  میں  ہم کو غالب سے یہ بھی نسبت ہے ،،ایک  چکر  ہے  میرے پاوں میں،، ہم نے سب  سے یہی  کہا امجد  یاد  رکھنا  ہمیں  دعاوں  میں      @امجد خان  تجوانہ @

اپنی ہی ذات سے نکل آئے

 اپنی ہی ذات سے نکل آئے جو تری بات سے نکل آئے  ایک سورج سے دوستی کے لئے  ہم  سیہ رات   سے   نکل   آئے  ہم نے خوشیوں کا ماتھا کیا چوما  دل   کے   صدمات   سے  نکل  آئے زندگی  نے  ہمیں بھلا  ڈالا  جب ترے ہاتھ سے نکل آئے  آج امجد تمھارے زخم سبھی ریشمی  دھات  سے نکل  آئے  امجد خان تجوانہ

کون کہتا ہے ہواؤں میں رہے ہیں امجد

 کون    کہتا   ہے   ہواوں میں رہے   ہیں امجد  ہم تو اک شخص کے پاوں میں رہے ہیں امجد  کون کہتا ہے ہواؤں میں رہے ہیں امجد ہم تو اک شخص کے پاؤں میں رہے ہیں امجد شام ہوتے   ہی   ہمیں   تھام لیا صدموں نے  ہم  ترے  بعد سزاوں  میں    رہے  ہیں امجد  جس پہ لکھا تھا  ترا  نام محبت سے کبھی  ہم اسی پیڑ کی چھاؤں میں رہے ہیں امجد  ورنہ  یہ شہر  تو کھا  جاتا بلاوں  کی طرح  وہ تو ہم ماں کی دعاؤں میں رہے ہیں امجد  ہم نے غربت میں بھی پھیلائے نہیں ہاتھ کبھی ہم  سدا   اپنی   اناوں   میں   رہے ہیں امجد  امجد  خان تجوانہ