عشق تھا،سو عشق تو ہم بے بسر کرتے رہے

 عشق تھا،سو عشق تو ہم بے بسر کرتے رہے
ہم ہوا کے دوش پر گویا سفر کرتے رہے
اس قدر دکھ دردتھے کہ چیختے ہم بار ہا
زندگی چپ چاپ لیکن ہم بسر کرتے رہے
نام تیرا لکھنے کی خواہش نہ پوری ہو سکی
خونچکا ں ہم انگلیوں کو عمر بھر کرتے رہے
درد کی دولت جو اپنے ہاتھ آنے لگ گئی
عام سارے شہر میں ہم یہ ہنر کرتے رہے
عشق میں کچھ معجزے بھی اپنے ہاتھوں سے ہوئے
ہم  بھی امجد   اشک  سوزاں   کو   گہر کرتے  رہے  
امجد خان تجوانہ

Comments