Posts

ایک کیا تجھ کو خفا کر بیٹھے

 ایک کیا تجھ کو خفا کر بیٹھے  خود کو دنیا سے جدا کر بیٹھے دور تک دھول اڑی یادوں کی بھول کر تجھ کو صدا کر بیٹھے روشنی کی کیا خواہش ہوئی ہم ہتھیلی کو دیا کر بیٹھے پھر بہت دیر تلک روتے رہے آج وہ مجھ کو دعا کر بیٹھے رقص میں ایسے گم ہوئے امجد  ہم کہ خود کو بھی ہوا کر بیٹھے امجد خان تجوانہ x

در سے نہ تم دیوار سے پوچھو

 در سے نہ تم دیوار سے پوچھو درد ہے کیا بیمار سے پوچھو کیسے ڈوبی سانس کی کشتی یادوں کے پتوار سے پوچھو  لہجہ آپ کا ٹھیک نہیں ہے  پوچھو!لیکن پیار سے پوچھو  کیونکر عزت لٹ جاتی ہے  امن کے ٹھیکے دار سے پوچھو  کب تک درد کو سہنا ہو گا امجد تم غمخوار سے پوچھو     #امجد خان تجوانہ # x

خشکی ہے نہ پانی ہے

 خشکی   ہے    نہ   پانی ہے آنکھوں   میں   حیرانی ہے اور ایسے میں   ہم  نے بھی دل کی  بات   ہی مانی ہے چاند    نکلنے      والا    ہے  آنکھوں   میں  طغیانی  ہے سب کو ٹھیک سمجھتا ہوں  یہ      میری     نادانی    ہے یہ   تم خود بھی جانتے ہو تم    میں   کتنا    پانی   ہے عشق میں در در بھٹکے ہیں  خاک بھی ہم نے چھانی ہے  اپنا    آپ   میں   ہاروں  گا تجھ   سے   شرط لگانی ہے  حاکم عیش و عشرت میں  لوگوں   کی   قربانی   ہے پہلے   خود   سے لڑنا   ہے پھر    تلوار   اٹھائی    ہے امجد میرے چاروں اور صدیوں کی ویرانی ہے     امجد خان تجوانہ x

میں بخت ڈھلا مرے ساتھ نہ چل

 میں اک نخل بے برگ و ثمر میں بخت ڈھلا مرے ساتھ نہ چل میں  ڈوبتے  سورج کا منظر  میں بخت ڈھلا مرے ساتھ نہ چل اک  لفظ  کہا  تھا میں  نے کبھی تقدیر بنا وہ دنیا کی  اب لفظوں میں نہیں کوئی اثر میں بخت ڈھلا مرے ساتھ نہ چل تو  مہکا  ہوا اک گلشن   ہے تو خوشیوں بھرا اک آنگن ہے مرے اجڑے ہوئے ہیں بام و در میں بخت ڈھلا مرے ساتھ نہ چل میں دیس میں اپنے پردیسی،پردیس میں جا کر کیا کرتا میں اپنے ہی گھر میں ہوں بے گھر میں بخت ڈھلا مرے ساتھ نہ چل تیرے  سامنے  ایک  زمانہ   ہے،ترا سب سے ہی یارانہ ہے میں اپنے رستےکا پتھر  میں بخت ڈھلا مرے ساتھ نہ چل سب سمٹ گیا تیری نظروں میں جو کچھ بھی تھا اس دنیا میں  تنکوں کی طرح گئی ذات بکھر میں بخت ڈھلا مرے ساتھ نہ چل جوں پہلی رات اجڑ جائے کسی دلہن کی دنیا امجد میں کانٹوں سجا ہوں اک بستر میں بخت ڈھلا مرے ساتھ نہ چل امجد خان تجوانہ x

بس محبت کی ہے ترجماں میری ماں

 بس محبت کی ہے ترجماں میری ماں مہرباں،مہرباں،مہرباں میری ماں وہ نہ ہو تو اندھرا ہی ہے ہر طرف  روشنی کی وہ ہے کہکشاں میری ماں جب بھی مشکل نے گھیرا مجھے دوستو' میں پکارا گیا،میری ماں ،میری ماں اے زمانے' مجھے دھوپ کا خوف کیوں ہے گھنی چھاوں کا آشیاں میری ماں ہر گھڑی میں خدا سے دعا یہ کروں اب ہمیشہ رہے جاوداں میری ماں سب خطائیں مری وہ چھپا لیتی ہے  مجھ سے ہوتی نہیں بدگماں میری ماں  ماں نہ ہوتی تو دنیا میں کچھ بھی نہیں سچ ہے امجد کہ میرا جہاں میری ماں امجد خان تجوانہ  x

عشق تھا،سو عشق تو ہم بے بسر کرتے رہے

 عشق تھا،سو عشق تو ہم بے بسر کرتے رہے ہم ہوا کے دوش پر گویا سفر کرتے رہے اس قدر دکھ دردتھے کہ چیختے ہم بار ہا زندگی چپ چاپ لیکن ہم بسر کرتے رہے نام تیرا لکھنے کی خواہش نہ پوری ہو سکی خونچکا ں ہم انگلیوں کو عمر بھر کرتے رہے درد کی دولت جو اپنے ہاتھ آنے لگ گئی عام سارے شہر میں ہم یہ ہنر کرتے رہے عشق میں کچھ معجزے بھی اپنے ہاتھوں سے ہوئے ہم  بھی امجد   اشک  سوزاں   کو   گہر کرتے  رہے   امجد خان تجوانہ

تیرے سب خط سنبھال رکھے ہیں

 تیرے سب خط سنبھال رکھے ہیں کتنے غم   ہیں جو پال  رکھے ہیں یونہی چہرے یہ جھریاں  تو نہیں   ساتھ میں ماہ و سال  رکھے  ہیں  یہ مرے شعر   قیمتی  ہیں  بہت  ان  میں تیرے خیال  رکھے  ہیں  عشق کے ساتھ  درد  کے  ناطے  جتنے  رکھے،  کمال  رکھے ہیں  حادثے وقت میں ہیں جتنے بھی  ہم نے وہ کل  پہ ٹال رکھے  ہیں  اس نے کوئی جواب ہی نہ دیا  ہم  نے کتنے  سوال رکھے ہیں  کتنا مشکل تھا زندگی کا سفر  سانس ہم  نے بحال رکھے ہیں       @امجد خان  تجوانہ@ x