ایک کیا تجھ کو خفا کر بیٹھے
ایک کیا تجھ کو خفا کر بیٹھے
خود کو دنیا سے جدا کر بیٹھے
دور تک دھول اڑی یادوں کی
بھول کر تجھ کو صدا کر بیٹھے
روشنی کی کیا خواہش ہوئی
ہم ہتھیلی کو دیا کر بیٹھے
پھر بہت دیر تلک روتے رہے
آج وہ مجھ کو دعا کر بیٹھے
رقص میں ایسے گم ہوئے امجد
ہم کہ خود کو بھی ہوا کر بیٹھے
امجد خان تجوانہ
x
Comments
Post a Comment