میں بخت ڈھلا مرے ساتھ نہ چل

 میں اک نخل بے برگ و ثمر میں بخت ڈھلا مرے ساتھ نہ چل
میں  ڈوبتے  سورج کا منظر  میں بخت ڈھلا مرے ساتھ نہ چل
اک  لفظ  کہا  تھا میں  نے کبھی تقدیر بنا وہ دنیا کی 
اب لفظوں میں نہیں کوئی اثر میں بخت ڈھلا مرے ساتھ نہ چل
تو  مہکا  ہوا اک گلشن   ہے تو خوشیوں بھرا اک آنگن ہے
مرے اجڑے ہوئے ہیں بام و در میں بخت ڈھلا مرے ساتھ نہ چل
میں دیس میں اپنے پردیسی،پردیس میں جا کر کیا کرتا
میں اپنے ہی گھر میں ہوں بے گھر میں بخت ڈھلا مرے ساتھ نہ چل
تیرے  سامنے  ایک  زمانہ   ہے،ترا سب سے ہی یارانہ ہے
میں اپنے رستےکا پتھر  میں بخت ڈھلا مرے ساتھ نہ چل
سب سمٹ گیا تیری نظروں میں جو کچھ بھی تھا اس دنیا میں 
تنکوں کی طرح گئی ذات بکھر میں بخت ڈھلا مرے ساتھ نہ چل
جوں پہلی رات اجڑ جائے کسی دلہن کی دنیا امجد
میں کانٹوں سجا ہوں اک بستر میں بخت ڈھلا مرے ساتھ نہ چل
امجد خان تجوانہ
x

Comments