خشکی ہے نہ پانی ہے
خشکی ہے نہ پانی ہے
آنکھوں میں حیرانی ہے
اور ایسے میں ہم نے بھی
دل کی بات ہی مانی ہے
چاند نکلنے والا ہے
آنکھوں میں طغیانی ہے
سب کو ٹھیک سمجھتا ہوں
یہ میری نادانی ہے
یہ تم خود بھی جانتے ہو
تم میں کتنا پانی ہے
عشق میں در در بھٹکے ہیں
خاک بھی ہم نے چھانی ہے
اپنا آپ میں ہاروں گا
تجھ سے شرط لگانی ہے
حاکم عیش و عشرت میں
لوگوں کی قربانی ہے
پہلے خود سے لڑنا ہے
پھر تلوار اٹھائی ہے
امجد میرے چاروں اور
صدیوں کی ویرانی ہے
امجد خان تجوانہ
x
Comments
Post a Comment